ایودھیا 5/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) ایودھیا کی منہدم کردہ بابری مسجد کے تنازع کو عدالت کے باہر آپسی بات چیت سے حل کرنے پر زور دینے والے آرٹ آف لیونگ کے سربراہ روی روی شنکر نے ایک انٹرویو کے دران ملک کے شہریوں کو خوف زدہ کرنے والا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ تنازع حل نہیں کیا گیا تو ہندوستان میں خانہ جنگی (سیول وار) چھڑ جائے گی جس کے نتیجے میں پورا ملک شام (سیریا) میں تبدیل ہوجائے گا۔ بھارت میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا ہے اور اس دیش کو سیریا جیسا نہیں بنانا ہے تو اس تنازعہ کو حل کرنا ہوگا۔
روی شنکر کے مطابق ایودھیا مسلمانوں کی مذہبی جگہ نہیں ہے، اس لئے مسلمانوں کو ایودھیا میں مسجد بنانے کا دعویٰ چھوڑ دینا چاہئے اور بھائی چارگی کی ایک مثال پیش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام متنازعہ زمین پر عبادت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ روی شنکر نے آگے کہا کہ مندر والی جگہ پر اسپتال بنانے کا مشورہ بے وقوفانہ ہے۔ بھگوان رام کو کسی دُوسری جگہ پر پیدا نہیں کرایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ عدالت سے آتا ہے تو عدالت کے فیصلے سے کوئی جماعت متفق نہیں ہوگی. اگر فیصلہ عدالت سے ہوگا، تو کسی ایک پارٹی کو ہار ماننی پڑے گی۔ ایسی صورتحال میں، ہاری ہوئی پارٹی فی الحال تو مان جائے گی، لیکن کچھ وقت بعد پھر ہنگامہ شروع ہوگا جو سماج کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے پھر ایک بار اس بات پر زور دیا کہ اس تنازع کو عدالت سے باہر ہی حل کرنا چاہئے۔
واضح رہے کہ پچھلے دنوں وارانسی میں شری شری نے مسلمانوں کا نام لئے بغیر اُنہیں اشارتاً کہا تھا کہ ملک کے 100 کروڑ لوگوں کی بھائونا اور ان کا احترام ایودھیا میں کچھ ایکڑ کی زمین کے تکڑے سے کہیں بڑا ہے. ایسے میں اس احترام کو برقرار رکھنے کے لئے آپسی بھارئی چارگی کو قائم رکھنا ہی سب سے زیادہ اہم ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی رضامندی کے ساتھ مندر کی تعمیر ہوتی ہے تو اس سے پورا تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔
اپنے خطاب میں مہا بھارت کا ذکر کرتے ہوئے روی شنکر نے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ مندر کی تعمیر کے لئے ایک انچ بھی زمین نہیں دیں گے. میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوریودھن مت بنیں ، یہ سب ناسمجھی کی باتیں ہیں۔
خیال رہے کہ 6/دسمبر 1992 کو ایودھیا میں سنگھ پریوار کی قیادت میں بزور قوت بابری مسجد شہید کی گئی تھی، جس کے فوری بعد اُس وقت کی کانگریس حکومت نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ اسی جگہ پر مسجد تعمیر کی جائے گی، اور دوسری طرف اس متازعہ مقام پر ایک عارضی ٹینٹ بناکر رام للا کی مورتیاں بھی رکھنے انتظام کردیا تھا۔ حکومت نے مسجد دوبارہ بنوائی تو نہیں مگر اُس وقت سے لے کر آج تک یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اب کچھ دنوں کے اندر یا ماہ کے اندر سپریم کورٹ سے بابری مسجد کی حق ملکیت کا فیصلہ سنایا جانا ہے تو ایسے میں روی روی شنکر صاحب بات چیت کے ذریعے مسلمانوں کو بابری مسجد سےدستبردار ہوجانے کی اپیل کرنے میدان میں اُتر گئے ہیں۔ ایسے میں اُنہیں کچھ مسلم علماء کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے، جس کے بعد مسلمانوں سے بابری مسجد والی جگہ کو رام مندر کی تعمیر کے لئے دستبردار ہوجانے کی اپیل میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔